18 اکتوبر 2014 - 07:21
آل سعود کو شیخ النمر کے خلاف فیصلے پر شدید مسائل کا سامنا ہو گا

علاالدین بروجردی نے کہا ہےکہ اگر سعودی عرب کی حکومت آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا دینے کی گستاخی کرے گي تو سعودی عرب میں سکیورٹی کے شدید مسائل سامنے آجائيں گے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاالدین بروجردی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر سعودی عرب کی حکومت آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا دینے کی گستاخی کرے گي تو سعودی عرب میں سکیورٹی کے شدید مسائل سامنے آجائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت چھوٹی سے مخالف کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسی شخصیتوں کے ساتھ تشدد کا استعمال کرنا جو عالم اسلام میں کافی معروف ہیں یقینا سعودی عرب کوداخلی اور عالمی سطح پر شدید مسائل سے دوچار کردے گا۔ علاالدین بروجردی نے کہا کہ شیخ نمر سعودی عرب میں بزرگ عالم دین اور اعلی علی مدارج پرفائز نیز مجاہد شخصیت ہیں اور ان کے خلاف حکومتی اقدامات سے سعودی عرب اور علاقے کے شیعہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونگے۔ دریں اثنا عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے بھی شیخ نمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کےعلاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ ادھر حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قراردیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں آل سعود کی حکومت سے کہا ہےکہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کرکے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ دریں اثنا ایک معروف سیاسی مبصر اور تجزیہ نگار نصیر العمری نے کہا ہےکہ آل سعود نے شیخ نمر کے خلاف پھانسی کی سزا کا فیصلہ سنا کر دانشمندی سے عاری ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کا یہ فیصلہ آگ سے کھیلنے کے برابر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲